رئیسہ پروین
مولانا شبلی نعمانی (٧٥٨١۔ ٦١٩١)
تجزیہ ۔شاعری کی حقیقت
مولانا شبلی نعمانی کی ولادت اعظم گڑھ کے ایک گائوں میں مئی ٧٥٨١ئ میں عین ان ہنگامہ خیز حالات میں ہوئی جس کو غدر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔شبلیؔ نے ٢٧٨١ئ تک مختلف اساتذہ سے مختلف مدارس اور درسگاہوں میں تعلیم حاصل کی یہاں تک کہ انیس سال کی عمر میں تعلیم کا سلسلہ ختم ہوا اور کتب بینی کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسی زمانے میں انہوں نے حج کیا۔ ان کے علمی شوق اور گھر میں علمی تربیت اور ماحول نے شبلی کے ذہنی نشو و نما میں معاون کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے حصولِ علم و ادب، منطق ،حدیث اور اصولِ فقہ کے لیے ان علمائ کے پاس جو ان تمام علوم میں ممتاز حےثیت رکھتے تھے دور دراز کا سفر بھی کیا۔مثلاً شبلی ؔ حدیث کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مولانا احمد علی سہارنپوری کے پاس رہے اور ادب سے فیض یاب ہونے کے لیے مولانا فیض الحسن کا دامن تھاما۔ اس کے علاوہ معقولات کی تمام کتابیں مولوی فاروق چڑیاکوٹی سے پڑھیں اور فارسی کا مزاج بھی انھیں سے حاصل کیا۔ شبلیؔ کے والد جو خود ایک کامیاب وکیل تھے وہ اور شبلیؔ کے گھر کے افراد سبھی شبلیؔ کو وکالت اور ملازمت کی طرف لگانا چاہتے تھے ان کے مرار سے مجبور ہو کر شبلیؔ نے وکالت کا امتحان پاس کیا اور چند روز وکالت کے پیشے سے منسلک رہے لیکن طبیعت چونکہ اس طرف راغب نہیں تھی لہٰذا وکالت اور ملازمت چھوڑ کر علمی مشاغل میں مصروف ہوگئے۔ اور معمولی تنخواہ کے عوض علی گڑھ میں پروفیسری کی۔
شبلیؔ نے حج سے واپس آنے کے بعد اعظم گڑھ میں قیام کیا اس وقت شبلیؔ کی عمر بیس برس کی تھی یہ وہ زمانہ تھا جب ٨٧٨١ئ میں روس اور ترکی کے بیچ جنگ چھڑ گئی تھی۔ اورترکی جو ایک مسلم مملکت تھی وہ اکیلے یوروپی طاقتوں سے نبرد آزما تھی۔ ترکی میں چونکہ اس وقت خلافت قائم تھی اس لیے تمام عالم کے مسلمانوں کا بڑا سہارا تھی۔ اور اس کے ساتھ اتحاد اسلام کی وجہ سے بھی تمام مسلمانوں کی ہمدردی ترکی کے ساتھ تھی۔ اس وقت شبلیؔ نے بڑی تندہی سے ترکی کے لیے چندہ جمع کیا۔ اس زمانے میں اعظم گڑھ میں ادبی ذوق عروج پر تھا مشاعرے ہوا کرتے تھے اور شرفائ ان مشاعروں میں شرکت کیاکرتے تھے ان دنوں شبلیؔ میں مناظرانہ جوش پیدا ہوا وہ میلوں تک کا سفر طے کرکے جاتے تھے اور مناظرہ کیا کرتے تھے۔ اور اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ غیر مقلدین کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
شبلیؔ نے اسی زمانے میں علی گڑھ کا سفر کیا یہ سفر ان کے لیے مبارک ثابت ہوا۔ شبلیؔ کے والد اور سر سید میں پرانا تعلق تھا اس لیے شبلیؔ کو سر سید کی قومی خدمات سے اچھی واقفیت تھی لہٰذا اسی تعلق کی بنا پر شبلیؔ نے عربی زبان میں سر سید کی شان میں ایک قصیدہ کہا اور اسے علی گڑھ میں سر سید کی خدمت میں پیش کیا ۔اس زمانے میں شبلیؔؔ کو شعرو شاعری میں خاص شغف تھا اور وہ اردو فارسی اور عربی زبان میں طبع آزمائی کیا کرتے تھے انھوں نے بہت سے فارسی خطوط بھی لکھے جو انشائ پر دازی کے بہترین نمونے ہیں اس کے علاوہ انھوں نے عربی علمائ کو بھی خطوط ارسال کیے۔
شبلیؔ ابتدا میں فارسی میں مشقِ سخن کیا کرتے تھے لیکن بعد میں وہ اردو کی طرف راغب ہوئے۔ شبلیؔ کی شاعری کا پہلا دور ابتدا سے ٢٨٨١ئ تک کا ہے ۔یعنی علی گڑھ میں پروفیسر مقرر ہونے سے پہلے کا یہ دور بچپن اور جوانی کا دور تھا۔شبلیؔ کی جوانی کا زمانہ شاعرانہ ماحول میں گزرا انھوں نے ابتدا میں تسنیمؔ تخلص اختیار کیا لیکن بعد میں شبلیؔ کے نام سے لکھنے لگے۔ شبلیؔ کی ایک فارسی نعت جو انھوں نے حضورؐ کے روضۂ مبارک کے سامنے پڑھی تھی وہ ان کی قدیم ترین تخلیق ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے نمونے موجود ہیں ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے جس میں انھوں نے تسنیمؔ تخلص اختیار کیاہے ؎
ضعف میں بھی یہ مرے تیرِ فغاں میں زور ہے
روک لے اس کو کہاں یہ آسماں میں زور ہے
نیست تھی اس کی کمر پر تونے یہ ثابت کر دیا
واہ وا تسنیمؔ کیا ترے بیاں میں زور ہے
SOHSIENQشبلیؔ کی تعلیم و تربیت مشرقی طرز پر ہوئی تھی۔ لیکن علی گڑھ کے قیام کے دوران مغربی اور مشرقی تہذیب کی ہم آہنگی اور انگریزی اساتذہ سے میل جول اور وہاں کی خاص فضا نے شبلی کو متاثر کیا۔ اور سر سید کے زیرِ سایہ شبلی فرقہ وارانہ کشمکش او رگروہ بندیوں سے آزادی حاصل کرتے گئے۔ علی گڑھ میں ان کی ملاقات پروفیسر آرنلڈ جیسے علم دوست سے ہوئی اور ان کی دوستی پروان چڑھی۔ پروفیسر آرنلڈ نے شبلی کو جدید علمی اصولوں سے آگاہ کیا تو شبلی نے انھیں قدیم علوم کی اہمیت کا احساس دلایا۔ شبلی نے آرنلڈ سے فرنچ سیکھی اور ان کو عربی پڑھائی۔ ٦٩٨١ئ میں شبلیؔ آرنلڈ کے ساتھ ترکی ،مصرو شام گئے یہ ان کا اسلامی ممالک کا پہلا علمی سفر تھا جس سے انھوں نے بہت کچھ حاصل کیا۔
بعض دوسرے لوگوں کی طرح شبلی نے بھی علی گڑھ تحریک سے بہت سے مفید اثرات قبول کیے جس میں ملت کی بربادی کے درد کا احساس نمایاں ہے۔ شبلی کو اسلام اور پیغمبر اسلام سے خاص عقیدت و محبت تھی۔ اسی جذبے کے زیرِ اثر انھوں نے اپنی کتابیں ’ المامون‘ جو ٧٨٨١ئ میں شائع ہوئی اسی زمانے میں الفاروق ،کی تخلیق کی اور سیرۃ النعمان لکھی جو جنوری ٣٩٨١ئ میں شائع ہوئی یہ کتابیں ان کی پیغمبر اسلام سے عقیدت کی غماز ہیں ۔سر سید کے رفقائ میں جن حضرات کے نام اہمیت کے حامل ہیں ان میں حالیؔ ، نذیر احمدؔ ،محمد حسین آزادؔ اور شبلیؔ کے نام قابلِ ذکر ہیں جنھوں نے اردو شعرو ادب کو بلندی عطا کی ۔اور سرسید کے علمی ، ادبی مذہبی، سماجی اورسیاسی مشن کوکامیاب بنانے میں پیش پیش رہے۔
شبلی نعما نی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔وہ بیک وقت اعلیٰ پائے کے مورخ ،محقق ناقد اور ماہرِ تعلیم، مصلح اور سوانح نگار تھے۔ اس ہشت پہلو شخصیت کا محورو مرکز شاعرانہ رجحانات تھے۔ شبلیؔ طالبِ علمی کے زمانے سے ہی شعر گوئی کی طرف مائل تھے۔ لیکن بعد میں علی گڑھ کے ادبی اور قومی اصلاحی فضا کے زیرِ اثر وہ اسلامی علوم و فنون کی تحقیق میں مصروف ہوگئے۔ جس کے سبب ان کے یہاں شاعری کی حیثیت ثانوی درجہ اختیار کر گئی۔ انھوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہے لیکن ان کی اہمیت ایک اعلیٰ پایۂ کے نقاد کی حیثیت سے مسلّم ہے ۔شبلیؔ نے اردو میں تنقید کا ایک ایسا سر بلند اور روشن مینار قائم کیا جس کی آب و تاب سے اردو شاعری میں چار چاند لگ گئے۔ یہی سبب ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود شبلی کے تنقیدی نظریات کی تابانی میں فرق نہیں آیا۔ شبلیؔ نے حالیؔ کی مانند اور ادب اور شاعری کو پر کھنے کے معیار مقرر کیے۔ لیکن دونوں حضرات کے تنقیدی نظریات میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ شبلیؔ کے تنقیدی نظریات و تصورات ان کی مایۂ ناز تصنیف موازنۂ انیسؔ اور دبیرؔ ،شعروالعجم، اور تنقیدی مضامین پر تبصروں میں دیکھے جاسکتے ہیں ان کے بیشتر مضامین رسائل الندوہ، اور ’معارف‘ میں شائع ہوئے اور بعد میں ’ مقالاتِ شبلیؔ ‘کے نام سے کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔ شبلیؔ کے یہاں تخلیقی اور تنقیدی شعور کا حسین امتزاج پایاجاتا ہے۔ حالیؔ کے بر عکس شبلیؔ ادب کی جمالیاتی اقدار کے قدر شناس ہیں ۔
٢٨٨١ئ میں علی گڑھ میں شبلی ؔ کی سر سید سے ملاقات ایک نتیجہ خیز اور اہم واقعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ سر سید کے زیرؔ سایہ انہیں مغربی تہذیب وفکر سے آشنا ہونے کے مواقع ملے اور اسی دوران پروفیسر آرنلڈ جیسے علمی دوست سے جدید تنقیدی و تحقیقی تصورات سے آگاہی حاصل ہوئی ۔ شبلیؔ کے تنقیدی نظریات کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے یورپ کے مختلف نقادوں اور مفکروں سے بھر پور استفادہ کیا ہے ۔ان کے تنقیدی نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے خلیل الرحمن اعظمی رقم طراز ہیں کہ :
’’شبلی ذوقی اور تحسینی نقاد ہیں ۔ شعر سے لطف اندوزی ان کے یہاں ایک تخلیقی عمل بن گئی ہے وہ شاعر کے تجربات کی اس طور پر باز آفرینی کرتے ہیں کہ وہ شعر ہر شخص کو اپنی واردات معلوم ہونے لگتا ہے۔ ان کا جمالیاتی ذوق رچا ہوا ہے اور ان کے احساسات بے حد لطیف و نازک ہیں ۔ شبلیؔ کی تنقیدی نگارشات نے کئی نسلوں کے مذاقِ سخن کی تربیت کی ہے ۔وہ موجودہ دورمیں بھی کافی دور تک ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں ۔‘‘
سر سید اور شبلی کا دور تنقید کا دور تھا اس وقت ہمارے تمام شعبۂ زندگی یعنی ادب و اعمال و عقائد پر تنقید ہو رہی تھی گویا زندگی کا ہر گوشہ تنقید کی زد میں تھا۔ شبلی نے بھی اپنی تمام تنقیدی صلاحیتوں سے کام لے کر نقدِ شعر اور تحسینِ کلام کے اصول متعیّن و مرتّب کیے ۔حالیؔ کے بعد شبلی ایک بڑے نقاد کی حیثیت سے اردو ادب میں پہچانے جاتے ہیں جن کی تنقیدی خیالات نے اپنے زمانے کے ادب کو بے حد متاثر کیا اور دورِ حاضر میں بھی ان کے نظریات کی بازگشت سنائی دیتی ہے ۔ان کے تنقیدی نظریات کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے ۔کہ ان کے بیشتر خیالات حالیؔ کے تنقیدی خیالات کی ضد ہیں ۔ حالی شعر و ادب سے افادیت اور اصلاح کا مطالبہ کرتے ہیں ان کے نزدیک شاعری کا اصل کام انسان کی زندگی کو سنوانا اور اس کے اخلاق کو درست کرنا ہے ۔جب کہ شبلیؔ کے نزدیک شاعری کا مقصد پڑھنے والے یا سننے والے کو مسرت بہم پہنچانا ہے۔ ان کی نظر اس حقیقت پر رہتی ہے کہ فنکارفنی تقاضوں کو کس حد تک پوراکرتا ہے اس روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ شبلیؔ جمالیاتی نقاد ہیں کیونکہ ان کے نزدیک شعرو ادب میں حسن کاری ہی اصل شے ہے ۔
حالیؔ کی مانند شبلی نے بھی یہ بحث اٹھائی ہے کہ شعر میں لفظ کی اہمیت زیادہے یا معنی کی۔ حالی ؔلفظ اور معنی دونوں کی اہمیت کے قائل ہیں مگر ان کا زیادہ جھکائو معنی کی طرف ہے ۔اس کے بر عکس شبلیؔ لفظ کی اہمیت کے قائل ہیں ان کے نزدیک مواد سے زیادہ اسلوب کی اہمیت ہے۔ لکھتے ہیں کہ
’’مضمون تو سب پیدا کر سکتے ہیں ۔شاعر کا معیار کمال یہی ہے کہ مضمون اداکن لفظوں میں کیا گیا ہے اور بندش کیسی ہے …حقیقت یہ ہے کہ شاعری یا انشا پردازی کا مدار زیادہ تر الفاظ پر ہی ہے۔ گلستان میں جو مضامین اور خیالات ہیں ایسے اچھوتے اور نادر نہیں ۔لیکن الفاظ کی فصاحت اور ترتیب و تناسب نے ان میں سحر پیدا کر دیاہے‘‘ ۔
اس اقتباس کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ شبلیؔ شاعری میں سادگی سے زیادہ مینا کاری کے قائل ہیں ۔ اور تشبیہ و استعارے کو شعر کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں ۔ ان کے نزدیک تشبیہ و استعارے سے کلام میں جو وسعت اور زور پیدا ہوتا ہے وہ کسی اور طریقے سے پیدا نہیں ہوسکتا۔ مثلاً اگر آدمیوں کی کثرت کو یوں ظاہر کیاجائے کہ وہاں آدمیوں کا جنگل تھا تو کلام میں زور پیدا ہوتا ہے ۔کیونکہ جنگل کے پودوں اور درختوں کا شمار کرنا نہایت مشکل کام ہے ۔
شبلیؔ کے خیال میں شاعری ’’وجدانی اور ذوقی چیز ہے‘‘۔ وہ شاعری کی اثر انگیزی کے بھی دل سے قائل ہیں کہتے ہیں :
’’جو چیزیں دل میں اثر کرتی ہیں بہت سی ہیں ۔ موسیقی، مصوری صنعت گری وغیرہ لیکن شاعری کی اثر انگیزی کی حد سب سے زیادہ وسیع ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ اسی موضوع پر جامع گفتگو کرتے ہیں ۔وہ شاعری میں حالیؔ کی طرح سماجی شعور پر زور نہیں دیتے بلکہ احساس کی اہمیت کے قائل ہیں کہتے ہیں ۔
’’یہی قوت جس کو احساس انفعال یا فیلنگ سے تعبیر کر سکتے ہیں شاعری کا دوسرا نام ہے ،یعنی یہی احساس جب الفاظ کا جامہ پہن لیتا ہے تو شعر بن جاتا ہے ۔‘‘
اس کے علاوہ شبلیؔ کے نزدیک شاعری دو چیزوں سے مل کر تشکیل پاتی ہے ۔محاکات ،اور تخیل ۔اگر ان دونوں میں سے ایک چیز بھی پائی جائے تو شعروجود میں آتاہے ورنہ نہیں ۔محاکات سے شبلی ؔکی مراد یہ ہے کہ کسی چیز یا کسی حالت کا اس طرح بیان کرنا کہ اس کی تصویر آنکھوں میں پھر جائے ،گویا محاکات وہ فن ہے جس کو ہم تصویر کشی اور شعری پیکر تراشی سے تعبیر کرتے ہیں اس کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے انھوں نے کافی بحث سے کام لیا ہے۔ شبلیؔ کے ان تنقیدی خیالات کی تشکیل میں عربی تنقید و تصورات کے ساتھ مغربی اصولِ نقد بھی کار فرما ہیں ، انھوں نے کہیں کہیں مغربی نقادوں کے اقوال بھی نقل کیے ہیں اور اپنے تنقیدی خیالات کے اظہار میں چند یورپی فلسفیوں اور مورخوں سے بھی استفادہ کیا ہے جن میں ہیگل ،ار سطو،ؔ کانٹؔ ، برکؔ، ملٹنؔ، شیکسپیئر، کارلائلؔ وغیرہ کے نام شامل ہیں ۔
شبلیؔ نے جن تنقیدی خیالات کا اظہار شاعری کے ضمن میں کیا ہے ان خیالات و تصورات کو انھوں نے اپنے کلام کی تخلیق میں عملی طور پر ملحوظ رکھا ہے۔ شعر کے فنی لوازمات جیسے تشبیہ و استعارہ کے استعمال بحروں کے انتخاب کے ساتھ بیان کی سادگی اورپرکاری پر انھوں نے خاص زور دیا ہے ۔
شبلیؔ کی نظر میں شاعری کے لیے دوسری اہم چیز تخیل ہے، جو محاکات سے زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ تخیل سے ہی محاکات میں جان پیدا ہوتی ہے ان کی نظر میں تخیل نئی نئی چیزوں کی پیدا کرنے کی قوت کا نام ہے یعنی تخیل وہ شے ہے جو بات سے بات نکال لیتی ہے اور وہ اشیائ جو آنکھوں سے اوجھل ہیں انہیں سامنے لا کر کھڑا کردیتی ہے اس کی جادو گری کے ذریعہ ہم ماضی اور مستقبل دونوں کو دیکھ پاتے ہیں ۔ شبلی کا کہنا ہے کہ قوتِ تخیل ایک چیز کو سو دفعہ دیکھتی ہے اور ہر دفعہ اس میں ایک نیا کرشمہ نظر آتا ہے شاعر قوتِ تخیل سے تمام چیزوں کو نہایت گہری اور عمیق نظرو ں سے دیکھتا ہے اور اس چیز کی جملہ خصوصیات پر نظر ڈالتا ہے ۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو شعرو ادب کے بارے میں شبلی کا نقطۂ نظر رومانی ہے۔ وہ شاعری پر پابندیاں عائد کرنے کے خلاف ہیں اور اسے مکمل آزادی کی فضا میں پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کرنے کے حق میں ہیں ۔
شبلیؔ نے احساس و جذبہ کو شعر کی اساس قرار دیاہے اور اس وصف کو انھوں نے اپنے کلام میں بدرجۂ اتم اپنایا ہے ۔ان کی شاعری میں ایک حساس دل کی دھڑکن سنائی دیتی ہے قومی زندگی اور سیاسی واقعات کے موضوع پر ان کی نظموں کے مطالعہ سے ان کی قومی و ملی درد مندی جوش اورخلوص کا اندازہ ہوتا ہے ۔سر سید سے ملاقات کے بعد شبلی نہ صرف سر سید کے ملّی خیالات و واقعات سے آشنا ہوئے بلکہ ان کے ہم نوا بھی بن گئے۔ ٧٥٨١ئ کے المناک حالات و واقعات کے بعد مسلمانوں کی ہمتوں کی پستیوں نے شبلی کو محمد حسین آزادؔ اور حالیؔ کا ہمنوا بنا دیا اور انھوں نے قوم کو اس اندھیرے میں اُمید کی کرن دکھانے کی بھر پور کوششیں کیں ۔ اس سلسلے میں انھوں نے حب الوطنی اور آزادی کے موضوع پر بہت سی اچھی نظمیں اردو ادب کو دیں ۔
شبلیؔ شاعری کو خطابت سے مختلف سمجھتے ہیں ۔ شاعری ایسی چیز ہے جسے سامعین سے کچھ غرض نہ ہو بلکہ درد کے احسا س سے جو کلمات بے ساختہ منھ سے نکل جائیں اور جب یہ اشعار دوسروں کے سامنے پڑھے جائیں تو اُن کے دل پر بھی شدت کے ساتھ اثر انداز ہوں اسی کو شعر کہتے ہیں اور اگر شاعر جوکچھ ہے وہ اپنے بجائے دوسروں کے لیے کہے تو وہ شاعر نہیں بلکہ خطیب ہے ۔اس سلسلے میں وہ حالیؔ کے ہم خیال ہیں کہ شاعری صرف تفریح طبع کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ شعر ایک ایسی قوت ہے جس سے بڑے بڑے کام لیے جاسکتے ہیں بشرطیکہ استعمال صحیح طور سے کیا جائے ۔شبلیؔ کا کہنا ہے کہ اخلاقی تعلیم دینے کا شاعری سے بہتر او رکوئی ذریعہ نہیں ہے کبھی کبھی ایک شعر سے ایسی اخلاقی تعلیم دی جاسکتی ہے جو ایک ضخیم کتاب سے ممکن نہیں ۔ شعر میں بہت تاثیر ہوتی ہے ۔ اس لیے جو خیال شعر کے ذریعہ ادا کیا جائے وہ اس قدر پر اثر ہونا چاہئے کہ دل میں اتر جائے۔
شبلی بیک وقت مورخ بھی تھے اور تنقید نگار بھی مگر ان کا مزاج شاعرانہ ہے ۔یہ مزاج ان کی نثر میں بھی جلوہ گر ہے جس نے ان کی نثر کو دلکش اور پراثر بنا دیا ہے ۔شبلیؔ کی ساری زندگی تصنیف و تالیف اور مطالعے میں گزری۔ انھوں نے بہت سی مایۂ ناز کتا بیں اردو ادب کو دیں جن میں سب سے اہم تصنیف ’’شعرالعجم‘‘ ہے اس کتاب کے ذریعہ شبلیؔ کے تنقیدی نظریات کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے جس میں انھوں نے شعرائ فارسی کے انتخاب پیش کیے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کے تنقیدی افکار کو سمجھنے کے لیے’ مقالاتِ شبلیؔ‘ اور’ موازنۂ انیسؔ ودبیرؔ‘ بھی اہمیت کی حامل ہیں ۔
سر سیدؔ کی وفات کے بعد شبلیؔ علی گڑھ سے استعفیٰ دے کر اعظم گڑھ آگئے اور یہاں ایک نیشنل اسکول قائم کیا جو آج شبلی کالج کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے بعد شبلیؔ حےدر آباد چلے گئے اور نظامت علوم و فنون کے عہدے پر فائز رہے ۔اسی زمانے میں انھوں نے الغزالی، سوانح مولانا روم، الکلام اور موزانۂ انیسؔ و دبیرؔ لکھیں ۔اس کے بعد شبلیؔ نے ندوۃ العلمائ لکھنؤمیں ، اور ندوۃ المصنّفین ،اعظم گڑھ میں قائم کیے۔ یہ دونوں ادارے آج بھی زندہ ہیں اوراسلامی دنیاکے بڑے معتبر اداروں میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔
شبلی مذہب اور سیاست دونوں میں ترقی یافتہ اور روشن خیال واقع ہوئے تھے۔ وہ مسلم لیگ سے بیزار تھے کانگریس کے حامیوں میں سے تھے ۔انھوں نے مذہبی اور سیاسی موضوعات پر جو نظمیں لکھیں وہ ان کی قادر الکلامی، جوشِ عمل ،بصیرت اور لطافتِ ذوق کی آئینہ دار ہیں ۔
0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں