جمعرات، 3 جنوری، 2019

اتفاق کرنے کا مظاہرہ کیا۔ قرارداد پر ووٹنگ


۱۵؍ فروری ۲۰۱۱؁ء کے لیبیا عوامی انقلاب کو بغاوت کا نام دے کر وہاں کے حاکم کرنل معمر قذافی نے اسے کچلنے کی بہت کوشش کی ، لیکن کرنل کی فوجی طاقت کا بے دریغ استعمال نے انقلاب کی آگ میں تیل کا کام کیا۔ لیبیا حکمراں نے انقلاب کچلنے کا جو طریقہ اختیار کیا وہ یقیناً غیر انسانی طریقہ تھا۔چہار جانب سے ان کے خلاف آواز بلند ہو گئی۔ جواب میں لیبیا حاکم کرنل معمر قذافی نے کہا کہ لیبیا کی تیل کی دولت پر قبضہ کرنے کی یہ مغربی سازش ہے۔ انہوں نے تیل کے کنوؤں میں آگ لگانے کی دھمکی بھی دی اور یہاں تک کہہ دیا کہ اگر دنیا پاگل ہے تو ہم بھی پاگل ہو جائیں گے۔
آخرکار تیل کی قدرتی دولت سے مالامال عرب افریقی ملک لیبیا کا وہی حال ہوا جس کا اندیشہ تماشائیوں کو تھا۔ عراق معاملہ میں صدر صدام حسین کے حشر سے کوئی سبق حاصل نہ کرتے ہوئے لیبیا حاکم کرنل معمر قذافی نے خود ہی اپنے ملک میں خارجی طاقت و مصیبت کو دعوت دے دیا جس کا انتظار برسوں سے مغرب کو رہا ہوگا۔ دیگر عرب ممالک کے حالیہ انقلاب کو دیکھتے ہوئے اگر قذافی اقتدار منتقل کرتے تو صرف قذافی خاندان یا اقرباء کو ہی انقلاب کا خمیازہ بھگتنا پڑتا۔ بیرونی مداخلت سے اب پورے ملک کو پتہ نہیں کب تک اسی قیمت چکانی پڑیگی۔ جس طرح عراق اور افغانستان آج تک مغربی ممالک کے چنگل سے آزاد نہیں ہو سکے ہیں۔
امریکی سازش اور فرانس و برطانیہ کی کوششوں کی بدولت امریکہ کی غلام و مظلوم تنظیم اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں برطانیہ، فرانس اور لیبنان نے مشترکہ طور پر لیبیا پر نو فلائی زون قائم کرنے کی قرارداد پیش کیا۔ اس قرارداد کی حمایت میں سلامتی کونسل کے دس ارکان نے ووٹ ڈالا اور یہ قرارداد صد فی صد ووٹ سے ۱۷؍ مارچ ۲۰۱۱؁ء کو منظور کر لی گئی، اور کچھ ہی دیر میں اس پر عمل بھی شروع ہو گیا۔ تنظیم اقوامِ متحدہ کی پندرہ ارکان پر مشتمل سلامتی کونسل کے پانچ ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہ لیکر قرارداد کو منظور ہونے کی راہ ہموار کی اور خاموش رہکر قرارداد سے اتفاق کرنے کا مظاہرہ کیا۔ قرارداد پر ووٹنگ سے غیر حاضر پانچ اراکین میں روس، چین، جرمنی، برازیل اور ہندوستان ہیں۔ واضح رہے کہ روس اور چین کو مستقل رکنیت کے ساتھ ویٹو پاور بھی حاصل ہے۔ اسکے علاوہ باقی تین ارکان برازیل، چین اور ہندوستان سلامتی کونسل میں عارضی رکن کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ جن ممالک نے ووٹ نہیں دیا ان کی کچھ نہ چھ وجہ ضرور ہوگی کہ انہوں نے اپنے مقامی یا داخلی مفاد کو عالمی یا بین الاقوامی مفاد پر ترجیح دی۔ ہندوستان کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ووٹنگ میں حصہ نہ لیکر یا یہ کہا جائے کہ قرارداد کی منظوری کی راہ ہموار کرکے سلامتی کونسل میں اپنی مستقل رکنیت کی امریکی سفارش کو یقینی بنانے کی طرف ایک اور قدم آگے بڑھایا ہے۔ اس سے پہلے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ہندوستان کی اولین خاتون سفیر کی بے عززتی پر خاموشی اختیار کرکے ہندوستان نے امریکہ کا دل جیتنا چاہا تھا۔
سلامتی کونسل کی اس قرارداد نمبر ۱۹۷۳ (۲۰۱۱) کا مقصد کرنل معمر قدذافی کے فوجیوں کو ملک کے مختلف علاقوں میں انقلابیوں پر فضائی حملوں کو روکنا ہے۔ قرارداد کے مطابق سلامتی کونسل نے اپنے رکن ممالک کو لیبیا پر نو فلائی زون قائم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کے لئے تمام ضروری اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ اس قرارداد میں غیر ملکی افواج کی لیبیا میں زمینی کارروائی کی ممانعت ہے۔ عرب ممالک کی نمائندہ تنظیم الجامعۃ الدول العربيۃ جسے عرب لیگ کے نام سے جانا جاتا ہے، نے بھی لیبیا میں نو فلائی زون قائم کرنے کی قرارداد منظور کی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نو فلائی زون کے قیام کی قرارداد الجامعۃ الدول العربيۃ کے درخواست پر پیش کی گئی تھی۔ حالانکہ اقوامِ متحدہ میں کسی کی بھی کوئی بات نہیں سنی جاتی سوائے امریکہ کے، یہ الگ بات ہے کی اگر درخواست امریکی مفاد پر منفی اثر نہیں ڈالتے یا درخواست سے امریکہ کو فائدہ ہو رہا ہو تو درخواست بلا تاخیر منظور ہو جاتی ہے۔
قرارداد کی منظوری کے فوراً بعد کرنل معمر قذدافی نے جنگ بندی کا علان بھی کیا لیکن طاقت کے نشے میں چور مغربی اتحادی افواج نے کارروائی جاری رکھی ہے اس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ کارروائی کا مقصد کرنل معمر قذدافی کا خاتمہ اور تیل پر قبضہ ہے نہ کہ شہریوں کا تحفظ۔ امریکہ اور اسکے حلیف لیبیا میں دخول کا کوئی موقعہ گوانا نہیں چاہتے۔ اگر مقصد شہریوں کے تحفظ کا ہوتا تو امریکی اتحادی افواج کی مزائیل کا نشانہ شہری کیوں بنے؟ یہ بھی نہایت اہم ہے کہ امریکہ نے پہلے ہی دن سے واویلہ مچا رکھا ہے کہ وہ اس کارروائی کی قیادت وہ نہیں کریگا اور نہ براہ راست حملہ کریگا ہاں حملہ کرنے میں دیگر ممالک کو سہولیات فراہم کریگا۔ جبکہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ قرارداد کی پیشی کے معاملہ میں بھی بظاہر فرانس ہی سرگرم تھا مگر پش منظر میں امریکہ ہی تھا۔ اب تک لیبیا کے خلاف کارروائی کے تعلق سے سب سے زیادہ بیان امریکہ کی طرف سے ہی آئیں ہیں۔
پورے معاملے میں صرف مغرب کی سازش پر ہی آنسو بہانا ٹھیک نہیں ہے۔ کرنل معمر قذافی کی فوجی کارروائی سے زیادہ انکی ہٹھ دھرمی بھی کافی حد تک اس پورے حالات کی ذمہ دار ہے۔ لیبیا انقلاب میں مغرب کی مداخلت پورے خطے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

انصاری محمد صاحبِ عالم
ابو ظبی، متحدہ عرب امارات
۱۷؍ ربیع الثانی ۱۴۳۲؁ھ
۲۲؍ دسمبر ۲۰۱۱؁ء

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں